امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، جبکہ ترکی، مصر اور پاکستان اس حوالے سے اہم ثالثی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ترکیہ، مصر، پاکستان کے اعلیٰ حکام نے امریکی نمائندے اسٹیووٹکوف اور ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے الگ الگ بات کی۔
امریکی صدر کا ایرانی پاور پلانٹ اور انفرااسٹرکچر کیخلاف 5 دن کیلئے حملے ملتوی کرنے کا حکم
ذرائع کا کہنا ہے کہ جاری سفارتی عمل میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے اور بات چیت کا محور نہ صرف کشیدگی میں کمی بلکہ ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے اور تمام متنازع امور کے حل پر مرکوز ہے۔ اس سلسلے میں فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ثالثی کے اس عمل میں ترکی، مصر اور پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ممالک خطے میں استحکام کے خواہاں ہیں اور کسی بھی بڑے تصادم سے بچاؤ کیلئے سرگرم عمل ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مذاکرات کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور جلد مثبت نتائج سامنے آنے کی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان اختلافات کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔
دوسری جانب عالمی برادری بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ سفارتی کوششیں خطے میں امن و استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گی۔
ایران آرمی کے ترجمان کا امریکی صدر ٹرمپ کو طنزیہ پیغام عالمی توجہ کا مرکز بن گیا
علاوہ ازیں فاکس نیوز کی جانب سے ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے بڑا دعویٰ سامنے آیا ہے۔امریکی چینل کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے اتوار کی رات مذاکرات ہوئے، مذاکرات میں امریکی ایلچی جیرڈ کشنر اور وٹکوف نے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ شرکت کی۔

اس حوالے سے مصری وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مصر علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے،تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ مذاکرات کو ترجیح دینے کیلیے ٹرمپ کی پہل سے فائدہ اٹھائیں۔مصر کشیدگی کم کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کے رابطوں اور بیانات کا خیرمقدم کرتا ہے۔
ایران کی امریکی صدر کے ایران کے ساتھ رابطوں کے دعوے کی تردید
ادھر ترک وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا،دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال پر گفتگو ہوئی۔
