ایران نے امریکی صدر کے ایران کے ساتھ رابطوں کے دعوے کی تردید کردی۔
ایرانی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکا کے ساتھ کوئی براہِ راست رابطہ نہیں ہے، امریکا کے ساتھ نہ تو براہ راست اور نہ ہی کسی ثالث کے ذریعے بات چیت ہو رہی ہے۔
امریکی صدر کا ایرانی پاور پلانٹ اور انفرااسٹرکچر کیخلاف 5 دن کیلئے حملے ملتوی کرنے کا حکم
ایرانی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی رابطے نہیں ہوئے ، ٹرمپ کے حالیہ بیان کا مقصد توانائی کی قیمتوں میں کمی لانا اور اپنے فوجی منصوبوں کیلئے وقت لینا ہے۔
کشیدگی کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات موجود ہیں ،امریکا کو خود اس معاملے میں بات چیت کرنی چاہیے کیونکہ یہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی،ہوسکتا ہے ٹرمپ کچھ بڑا کرنے سے پہلے ٹائم خرید رہا ہو، اور یہ سب دھوکہ ہو۔
دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کے ترجمان ابراہیم رضائی کا اپنے بیان میں کہنا تھاکہ جنگ جاری ہے ، دشمن کو ایک اور شکست کا سامنا ہوا ہے ،ٹرمپ اور امریکا ایک بار پھر شکست کھا چکے ہیں۔
امریکی صدر کے ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں گر گئیں
ادھر امریکی صدر کے اعلان کے بعد ایران اور روس کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا ہے،روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے فوری طور پر سیزفائر کا مطالبہ کیا ہے ، لاروف نے کہا کہ ایران اور تمام فریقین کے جائز مفادات کو مدنظر رکھ کر حل تلاش کیا جائے۔
