لندن: برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بن سکتا۔ اور جلد آبنائے ہرمز کو کھولنا ہو گا تاہم یہ آسان کام نہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے۔ جبکہ اس حوالے سے کینیڈا کے وزیر اعظم سے بھی بات چیت ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اور مارکیٹوں میں استحکام کے لیے آبنائے ہرمز کو جلد دوبارہ کھولنا ضروری ہے۔ تاہم یہ کوئی آسان کام نہیں۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ کسی بھی وسیع تر علاقائی جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرے گا۔ اور برطانیہ کی توجہ ایرانی خطرات کو کنٹرول کرنے اور کشیدگی کے فوری خاتمے پر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ گلف میں جنگ نہیں چاہتے اور مسئلے کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ جنگ کے بعد ایران کے ساتھ ایسا مذاکراتی معاہدہ ضروری ہو گا جو اس کے ایٹمی پروگرام کی ترقی کو محدود کرے۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ حکومت نے ہیٹنگ آئل استعمال کرنے والے گھرانوں کے لیے 53 ملین پاؤنڈ کے فنڈ کا اعلان کیا ہے۔ اور جنگ کا خاتمہ ہی مہنگائی کم کرنے کا تیز ترین راستہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا ہوگا، چین کا پاکستان اور افغانستان کو مشورہ
ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کو مزید پھیلنے نہیں دیا جائے گا۔ اور وقت ثابت کرے گا کہ برطانیہ نے درست حکمت عملی اپنائی ہے۔
