چین نے ایک بار پھر پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کم کرانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کی پیشکش کی ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم کام جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا اور دونوں ممالک کو جلد از جلد مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت اور تعلقات میں بہتری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور حالیہ دنوں میں بیجنگ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں بھی کر رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے چند روز قبل ٹیلیفون پر افغان ہم منصب امیر خان متقی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان اختلافات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسلام آباد کئی بار کابل کی طالبان حکومت سے مطالبہ کر چکا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کیا جائے، خاص طور پر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے، تاہم حکام کے مطابق ان مطالبات پر تاحال خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
