امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران سے بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم انہیں یقین نہیں کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے خواہاں بھی ہیں یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال حل نہ ہوئی تو ان کا متوقع دورہ چین بھی ملتوی ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق چین اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد آبنائے ہرمز کے ذریعے حاصل کرتا ہے، اس لیے بیجنگ کو اس اہم بحری راستے کو کھلا رکھنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نیٹو نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں مدد نہ کی تو مستقبل کی صورتحال بہت خراب ہوسکتی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک کو بھی آبنائے ہرمز کی اتنی ہی یا اس سے زیادہ ضرورت ہے جتنی امریکا کو ہے، اس لیے اس کی سیکیورٹی کے لیے سب کو آگے آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر سات ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس اہم گزرگاہ کو محفوظ بنانے پر کام کر رہا ہے۔
سعودی عرب پر ڈرون حملوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں، ایرانی پاسداران انقلاب
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو دو ہفتوں میں شدید نقصان پہنچایا گیا ہے جبکہ امریکا ایرانی ڈرون سازی کی صنعت کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر چین نے تعاون نہ کیا تو ان کی شی جن پنگ سے ملاقات تاخیر کا شکار ہوسکتی ہے۔
امریکی صدر نے برطانیہ کے تعاون نہ کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا۔
