ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر ہونے والے ڈرون حملوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ سعودی عرب پر ڈرون حملوں کا ایران پر الزام بے بنیاد ہے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق سعودی حکام کو حملوں کے اصل ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے خود تحقیقات کرنی چاہئیں۔
دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات کی الفجیرہ بندرگاہ پر تیل کی لوڈنگ دوبارہ بحال ہو گئی ہے۔
ایران کے تل ابیب سمیت اسرائیل کے مختلف علاقوں میں میزائل حملے، کئی مقامات پر آگ لگ گئی
خبر رساں ادارے رائٹرز نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے علاقائی ممالک پر حملوں سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی پیشکش کی گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ممکن ہے کہ عرب ممالک میں شہری اہداف پر ہونے والے حملوں کے پیچھے اسرائیل ہو، ایران نے خلیجی ممالک میں کسی بھی شہری یا رہائشی علاقے کو نشانہ نہیں بنایا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی ساختہ ڈرون لوکس بھی خطے میں اہداف پر حملوں میں ملوث ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ تہران ایسے اقدام کو خوش آمدید کہتا ہے جو جنگ کو مکمل خاتمے کی طرف لے جائے۔
ادھر عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے متحدہ عرب امارات میں امریکی فضائی اڈے الظفرہ پر حملہ کیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق اس حملے میں 10 میزائل اور متعدد ڈرونز استعمال کیے گئے۔
