ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کی ٹرافی مندر لے جانے پر بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں سابق کرکٹر اور رکن پارلیمنٹ کرتی آزاد نے اس اقدام پر سخت تنقید کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ ٹرافی کے ہمراہ ایک مندر پہنچے، جس پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
کرتی آزاد نے کہا کہ بھارت کو اس معاملے پر شرمندہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق جب 1983 کا عالمی کپ جیتنے والی بھارتی ٹیم وطن واپس آئی تھی تو اس ٹیم میں ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی کھلاڑی شامل تھے اور اس وقت ٹرافی پورے ملک کی نمائندگی کرتی تھی۔
𝐄𝐭𝐜𝐡𝐞𝐝 𝐈𝐧 𝐆𝐥𝐨𝐫𝐲 🏆
📸 Captain Surya Kumar Yadav with the prestigious ICC Men’s T20 World Cup Trophy 😍💙#TeamIndia | #T20WorldCup | #MenInBlue | @surya_14kumar pic.twitter.com/oxK2VVPMYe
— BCCI (@BCCI) March 9, 2026
انہوں نے سوال اٹھایا کہ موجودہ فاتح ٹیم نے پورے بھارت کی نمائندگی کی ہے، نہ کہ کسی ایک فرد یا مذہب کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کھلاڑی محمد سراج ٹرافی کو مسجد نہیں لے جا سکتے اور سنجو سیمسن اسے چرچ نہیں لے گئے تو پھر ٹرافی مندر کیوں لے جائی گئی؟
کرتی آزاد کا کہنا تھا کہ یہ ٹرافی 140 کروڑ بھارتیوں کی ہے اور اسے کسی ایک مذہب سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جے شاہ ٹرافی کے ہمراہ مندر کس حیثیت میں گئے۔
واضح رہے کہ اس معاملے پر بھارتی ٹیم کو اپنے ہی ملک میں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور سوشل میڈیا پر اس موضوع پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
