مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے بعد دنیا بھر کی ائیرلائنز نے فضائی ٹکٹ مہنگے کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے عالمی سفر کی صنعت پر دباؤ بڑھنے لگا ہے۔
ایئر نیوزی لینڈ نے منگل کو اعلان کیا کہ اس نے اپنے تمام کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے اور اگر ایندھن کی قیمتیں مزید بڑھیں تو مستقبل میں مزید اضافے کا امکان بھی ہے۔
ائیرلائن کے مطابق جنگ سے قبل جیٹ فیول کی قیمت تقریباً 85 سے 90 ڈالر فی بیرل تھی، جو حالیہ دنوں میں بڑھ کر 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال کے باعث کمپنی نے 2026 کے لیے اپنی مالی پیش گوئی بھی معطل کر دی ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ مقامی پروازوں کے یک طرفہ اکانومی ٹکٹ میں 10 نیوزی لینڈ ڈالر، قریبی بین الاقوامی پروازوں میں 20 ڈالر جبکہ طویل فاصلے کی پروازوں میں 90 ڈالر تک اضافہ کیا گیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث فضائی حدود بند ہونے اور راستوں کی تبدیلی کے سبب ایشیا اور یورپ کے درمیان پروازوں کے کرایوں میں پہلے ہی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
دوسری جانب ویتنام ایئرلائنز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جیٹ فیول پر عائد ماحولیاتی ٹیکس ختم کیا جائے کیونکہ ایندھن مہنگا ہونے سے ائیرلائنز کے اخراجات 60 سے 70 فیصد تک بڑھ چکے ہیں۔
اسی دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ائیرلائنز کے حصص میں بھی کچھ استحکام دیکھا گیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، جس کے بعد تیل کی قیمتیں تقریباً 119 ڈالر فی بیرل کی بلند سطح سے کم ہو کر 90 ڈالر کے قریب آ گئیں۔
ایشیا میں کئی بڑی ائیرلائنز کے حصص میں بھی بہتری دیکھی گئی، جن میں کورین ایئر، کنٹاس ایئرویز، اور کیتھے پیسیفک شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایندھن ائیرلائنز کے اخراجات میں عملے کے بعد دوسرا بڑا خرچ ہوتا ہے اور عام طور پر کل آپریٹنگ اخراجات کا 20 سے 25 فیصد اسی پر صرف ہوتا ہے۔
ادھر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سیاحت کی صنعت کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ بعض سفری کمپنیوں نے خطے سے متعلق گروپ ٹور منسوخ کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق اگر تنازع طویل ہو گیا تو عالمی فضائی سفر اور سیاحت کی صنعت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔
