عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی کرنسی کی قدر کو حقیقی مؤثر شرح تبادلہ کے مطابق ایڈجسٹ کرے، جس کے نتیجے میں پاکستانی روپے کی قدر مزید کم ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام کے ساتھ جاری مشاورت کے دوران ادارے نے کہا ہے کہ شرح تبادلہ کو معاشی بنیادی عوامل کے مطابق لانا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو پاکستانی روپے کی قدر تقریباً 280 روپے فی ڈالرکے مقابلے میں کم ہو کر 290 سے 300 روپے فی ڈالر تک جا سکتی ہے۔
یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان آئندہ وفاقی بجٹ کی تیاری کر رہا ہے اور معاشی اصلاحات کے حوالے سے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ پالیسی مذاکرات جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق کمزور کرنسی سے برآمدات کو کچھ فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ مقامی مصنوعات عالمی منڈی میں نسبتاً سستی ہو جاتی ہیں، تاہم اس کے ساتھ درآمدی اشیا خصوصاً ایندھن اور خام مال مہنگا ہونے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مالیاتی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات پر کام کر رہا ہے، جن میں محصولات میں اضافہ اور ایکسچینج ریٹ کو لچکدار رکھنا شامل ہے۔
