پیرس: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں نیا تنازع عالمی معیشت کی مضبوطی کا امتحان بن گیا ہے۔ اور جنگ کے بعد بھی دنیا کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کرسٹالینا جارجیوا نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران تیل اور گیس کی اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی پر مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی تقریباً 90 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ دنیا کی تقریباً 60 فیصد تیل اور 11 فیصد ایل این جی درآمدات اسی اہم سمندری گزرگاہ سے ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی تیل تنصیبات پر حملوں پر امریکا اور اسرائیل میں پہلا بڑا اختلاف
آئی ایم ایف سربراہ نے کہا کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو پالیسی سازوں کے لیے نئے معاشی چیلنجز پیدا ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی تقریباً 50 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ جس کے مزید اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
