ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث بین الاقوامی پروازوں اور رسد کے نظام میں خلل پڑنے سے پاکستان میں جان بچانے والی ادویات، ویکسین اور بچوں کے دودھ کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی پروازوں کی معطلی نے پہلے ہی ادویات، دواسازی میں استعمال ہونے والے خام مال اور ویکسین کی درآمد کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ درآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو ادویات کی شدید کمی اور قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خطرہ ہے۔
پاکستان کے پاس اس وقت دواسازی کے خام مال کا ذخیرہ تقریباً ڈیڑھ سے دو ماہ کے لیے موجود ہے۔
صنعتی نمائندوں کے مطابق ملک میں ادویات کی تیاری کے لیے درآمدی خام مال پر بہت زیادہ انحصار ہے۔ تقریباً 55 سے 60 فیصد خام مال بھارت سے جبکہ 40 سے 45 فیصد چین سے درآمد کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں غیر رسمی طور پر پہلے ہی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور اگر کشیدگی برقرار رہی تو یہ قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق کینسر، ذیابیطس، انسولین اور دل کے امراض کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات خاص طور پر مہنگی ہو سکتی ہیں۔
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان بچوں کے دودھ اور بعض ویکسین کی درآمد پر بھی بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔ اگر خلیجی ممالک کے راستے رسد کا سلسلہ متاثر رہا تو ادویات اور دیگر طبی اشیا کی قلت پیدا ہو سکتی ہے اور صحت کے نظام پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
