اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی آج آئندہ سہ ماہی کے لیے پالیسی شرح سود کا فیصلہ کرے گی، جس میں شرح سود میں اضافے یا اسے موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
معاشی و مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے کاروباری لاگت کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث مہنگائی کی نئی لہر آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں جبکہ پیداوار اور مینوفیکچرنگ کی لاگت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں نقل و حمل کے کرایوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ سڑکوں پر چلنے والی ٹرانسپورٹ، عوامی ٹرانسپورٹ، نجی ٹیکسی اور رکشہ، ریل گاڑیوں اور ہوائی سفر کے کرایوں میں اضافے کے باعث اشیائے خورونوش، سبزیوں، پھلوں، روزمرہ استعمال کی اشیا اور ادویات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال کے توانائی، رسد کے نظام اور ترسیل کے سلسلے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں جبکہ بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر شرح سود میں اضافہ کیا گیا تو اس سے برآمد کنندگان کے لیے قرض کی دستیابی مزید محدود ہو سکتی ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے مالی سہولتیں متاثر ہوں گی جبکہ صنعتوں اور زراعت کے لیے قرض کی لاگت بھی بڑھ جائے گی۔
ان کے مطابق بڑھتی مہنگائی اور کم ہوتی برآمدات کے باعث تجارتی خسارہ مزید بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
