وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ آج وزیر اعظم ہاؤس میں ایک انتہائی اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور قومی سلامتی کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ امن، استحکام اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی بات کی ہے اور کبھی بھی جارحیت کو فروغ نہیں دیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ بھی کبھی پہل کرتے ہوئے جارحیت کی بات نہیں کی بلکہ خود حملے برداشت کیے مگر اس کے باوجود امن کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے معاملے میں بھی پاکستان کی ہمدردیاں ہمیشہ افغان عوام کے ساتھ رہیں اور پاکستان نے قیامِ امن کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
ترکیہ نے اپنی فضائی حدود کی طرف آنے والا بیلسٹک میزائل مار گرایا
طارق فضل چودھری کے مطابق افغان طالبان کے اقتدارمیں آنے کے بعد سے اب تک پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں 8 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دی جا چکی ہیں، دوحا میں افغان طالبان رجیم کے ساتھ مذاکرات بھی ہوئے تاہم وہ بے نتیجہ ختم ہوئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف آپریشن تک محدود ہیں اور جب تک مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہوجاتے یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایران پر حملوں کی مذمت کی ہے جبکہ خلیجی ریاستوں پر حملوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست اور اچھے ہمسائے کی حیثیت سے خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اگر کسی قسم کی جارحیت مسلط کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
