گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ رواں سال مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے جبکہ آئندہ مالی سال میں بھی افراطِ زر اسی حد میں رہ سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ علاقائی کشیدگی اورعالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مہنگائی پر اثرانداز ہو سکتا ہے، اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
گورنر کے مطابق رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً ایک فیصد تک محدود رہ سکتا ہے اور پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باوجود خسارہ مقررہ حد میں رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جو جون تک 18 ارب ڈالر اور دسمبر 2026 تک 20 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
خطے کی صورتحال ، وزیراعظم ہاؤس میں سیاسی جماعتوں اور ارکان پارلیمنٹ کو ان کیمرہ بریفنگ
ان کا کہنا تھا کہ یہ ذخائر قرضوں پر مبنی نہیں بلکہ گزشتہ تین برسوں میں 24 ارب ڈالر کی مارکیٹ سے خریداری کے ذریعے مضبوط کیے گئے ہیں۔
بیرونی قرضوں کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ مجموعی بیرونی قرضہ 55 ارب ڈالر سے بڑھ کر 103 ارب ڈالر تک پہنچا تاہم گزشتہ چار برسوں سے اس میں مزید اضافہ نہیں ہوا۔ پاکستان کا مجموعی قرضہ اس وقت 138 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کا رول اوور اب ماہانہ بنیادوں پر کیا جا رہا ہے، اس سے قبل یہ سالانہ بنیادوں پر ہوتا تھا تاہم دیگر شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں سال معاشی شرح نمو 4.7 سے 5.7 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ ہے جبکہ ترسیلات زر 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کریں گی۔
