ترک وزارت دفاع کے مطابق ایران سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل عراق اور شام کی فضائی حدود سے گزرتا ہوا ترکیہ کی جانب بڑھ رہا تھا جسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مار گرایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ میزائل کا ملبہ شام کے ایک صوبے میں گرا تاہم کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، وزارت دفاع نے بتایا کہ میزائل کو ناکارہ بنانے میں نیٹو کے مربوط فضائی دفاعی نظام نے اہم کردار ادا کیا۔
ٹرمپ نے بغض میں مذاکرات کی میز کو ہی بمباری کا نشانہ بنا دیا، ایرانی وزیر خارجہ
حکام کے مطابق ترکیہ اپنی فضائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور اپنے ملک کے خلاف کسی بھی کارروائی کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ترکیہ نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں جاری کشیدگی کو مزید پھیلانے والے اقدامات سے گریز کریں اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں تاکہ علاقائی امن واستحکام برقرار رکھا جا سکے۔
