مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑھتی ہوئی طلب نے دنیا بھر میں میموری چِپس کی فراہمی پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں اسمارٹ فونز کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بڑے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی ماڈلز کے لیے میموری چِپس کی خریداری میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں موبائل فون انڈسٹری کو سپلائی چین میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے اثرات کے پیش نظر عالمی سطح پر اسمارٹ فونز کی اوسط قیمت تقریباً 14٪ بڑھ کر 523 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
ایپل نے آئی فون کی فروخت بڑھانے کے لیے بجٹ‑فرینڈلی ماڈل لانچ کر دیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل قریب میں 100 ڈالر سے کم قیمت والے فونز کی تیاری ممکن نہیں رہے گی، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے برانڈز خاص طور پر متاثر ہوں گے۔ 2026 میں اسمارٹ فون کی عالمی فروخت میں 12.9٪ تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو گزشتہ دہائی کی کم ترین سطح ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، بڑے برانڈز جیسے ایپل اور سیمسنگ اس سپلائی بحران کا مقابلہ بہتر انداز میں کر سکیں گے، جبکہ چھوٹے اینڈرائیڈ مینوفیکچررز زیادہ دباؤ محسوس کریں گے۔
اوپن اے آئی اور امریکی محکمۂ دفاع کے درمیان اہم معاہدہ طے
اے آئی چِپ ساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز کی کارکردگی کے لیے ہائی پرفارمنس میموری کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے نہ صرف نئی بلکہ پرانی میموری چِپس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
