ایران اگر آبنائے ہرمز بند کرتا ہے تو دنیا کی توانائی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی اہم گزرگاہ سے ہوتا ہے اور اس کی بندش سے متعدد ایشیائی اور یورپی معیشتیں براہِ راست متاثر ہوں گی۔
اعداد و شمار کے مطابق مشرقی ایشیا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ ہوگا۔ جاپان اپنی تیل کی درآمدات کا تقریباً 72 فیصد خلیجی ممالک سے حاصل کرتا ہے۔
جنوبی کوریا کی 65 فیصد تیل درآمدات اسی راستے سے ہوتی ہیں، چین اور بھارت تقریباً 50، 50 فیصد تیل خلیجی خطے سے درآمد کرتے ہیں، یورپی یونین کو 18 فیصد جبکہ امریکا کو صرف 2 فیصد تیل خلیجی ممالک سے حاصل ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی، صنعتی پیداوار میں کمی اور عالمی معیشت میں سست روی کا خدشہ پیدا ہوگا۔
امریکیوں کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور یہ عالمی توانائی سپلائی کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
