تہران: ایران نے افغانستان، پاکستان اور دیگر برادر ممالک سے ملحقہ تمام سرحدیں مکمل طور پر بند کر دیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر ایران تفتان بارڈر سمیت کیچ سے ملحقہ سرحدی گزرگاہیں بند کیے جانے کے بعد تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں۔
ایران کی جانب سے اشیائے خورونوش اور ادویات کی برآمد پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ جس کے باعث سرحدی تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایران سے خوراک اور ادویات کی فراہمی بند ہونے سے بلوچستان کے علاقوں تفتان، دالبندین، تربت، کیچ اور پنجگور متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اس فیصلے سے پاکستان اور افغانستان دونوں متاثر ہوں گے۔ کیونکہ ایران سے اشیائے خورونوش کی خریداری ان ممالک میں بڑی مقدار میں کی جاتی تھی۔
تاجروں کے مطابق سرحدی تجارت رکنے سے مقامی کاروبار شدید متاثر ہو گا۔ اور غذائی قلت کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس کا جوہری ہتھیاروں میں اضافے کا اعلان
تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ سرحدی علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
