پیرس: فرانس نے کئی دہائیوں بعد پہلی بار اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھانے کا اعلان کر دیا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے شمال مغربی فرانس کے فوجی اڈے ایل لونگ میں خطاب کرتے ہوئے نئی دفاعی حکمت عملی کو یورپ کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر آزادی برقرار رکھنے کے لیے طاقتور اور مؤثر دفاعی صلاحیت ضروری ہے۔ اور دنیا میں محفوظ رہنے کے لیے فرانس کو ایک مضبوط طاقت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
صدر میکرون نے اعلان کیا کہ فرانس پہلی بار اپنے جوہری ہتھیار لے جانے والے طیاروں کی عارضی تعیناتی اتحادی ممالک میں بھی کر سکے گا۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ سازی کا اختیار فرانس کے پاس ہی رہے گا۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ برطانیہ، جرمنی، پولینڈ، نیدرلینڈ، بیلجیئم، سوئیڈن، یونان اور ڈنمارک کے ساتھ دفاعی تعاون اور جوہری حکمت عملی پر مذاکرات جاری ہیں۔
مشترکہ بیان میں فرانس اور جرمنی نے اعلان کیا کہ رواں سال سے دونوں ممالک دفاعی تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔ جس میں جرمنی کی جانب سے فرانسیسی جوہری مشقوں میں روایتی فوجی شرکت اور اسٹریٹجک تنصیبات کے مشترکہ دورے شامل ہوں گے۔
فرانس نے یورپی اتحادی ممالک کو جوہری مزاحمتی مشقوں میں شرکت کی اجازت دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ بعض یورپی حلقوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ تاہم اسلحہ کے پھیلاؤ کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے اس پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی، قطر
واضح رہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران سے متعلق بڑھتی کشیدگی اور بدلتے عالمی جغرافیائی حالات کے باعث یورپی ممالک اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
