اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ایران کے اہم حکومتی و عسکری مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں صدارتی دفتر اور دیگر کلیدی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
بی بی سی کے مطابق اسرائیلی فوج (IDF) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی کارروائی کے دوران ایرانی قیادت کے مرکزی کمپاؤنڈ پر متعدد بم گرائے گئے۔ بیان کے مطابق اس حملے میں صدارتی دفتر، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ہیڈکوارٹر اور ایک اہم عسکری تربیتی ادارہ بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایران اور اسرائیل جنگ کے درمیان بابا وانگا کی حیران کن پیشگوئی وائرل
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کے حساس ترین حکومتی انفراسٹرکچر کے خلاف کی گئی، جس کا مقصد مبینہ طور پر ایرانی قیادت کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا۔ مزید کہا گیا ہے کہ حملے میں دیگر اہم سرکاری عمارتیں بھی متاثر ہوئیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اسی کمپاؤنڈ کو استعمال کرتے تھے، جہاں حالیہ حملہ کیا گیا۔ اسرائیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ خامنہ ای کو گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں اسی مقام پر نشانہ بنایا گیا تھا۔
تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہو سکی ہے۔
ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے ، خواجہ آصف
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسرائیلی دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ کر سکتے ہیں، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
علاقائی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور عالمی برادری کی نظریں اس پیش رفت پر مرکوز ہیں، جبکہ کسی بھی ممکنہ ردعمل کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔
