امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی کا اگلا مرحلہ موجودہ صورتحال سے زیادہ سخت ہوگا اور اب بھی “سخت حملہ کرنا باقی ہے”۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ “آپریشن ایپک فیوری” مکمل ہونے کے بعد دنیا ایک محفوظ جگہ ہوگی۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف جاری آپریشن تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اب تک چھ امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران جیسے ملک کے پاس میزائل اور ایٹمی ہتھیار ہوں تو وہ پوری دنیا کو یرغمال بنا سکتا ہے، اس لیے اسے میزائل ٹیکنالوجی حاصل نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہر ماہ تقریباً ایک سو میزائل تیار کر رہا ہے اور امریکی مشن ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے اور تیاری کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔
روبیو نے مزید کہا کہ ایران اس وقت کمزور ترین حالت میں ہے اور انہیں امید ہے کہ ایرانی عوام موجودہ حکومت کو ہٹا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایسا ایران چاہتا ہے جہاں موجودہ رجیم کی حکومت نہ ہو۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے اقدامات کو سنجیدگی سے لیا گیا، اسی لیے آپریشن کی ضرورت پیش آئی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے حملے کا انتظار نہیں کر سکتا تھا، اس لیے پیشگی کارروائی کی گئی۔
روبیو نے یہ بھی کہا کہ ایران میں کسی اسکول کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔
