واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے فوجی اڈے استعمال کرنے کی فوری اجازت نہ دینے سے مایوسی ہوئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حملوں کے لیے ڈیگو گارشیا فوجی اڈے کو استعمال کرنے کی فوری اجازت نہیں دی۔ جس پر انہیں شدید مایوسی ہوئی۔ ایسے حساس وقت میں قریبی اتحادیوں کے درمیان مکمل تعاون ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے برطانوی رویئے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے نے دونوں ممالک کے درمیان پالیسی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بعد ازاں امریکا کو فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی۔ انہوں ںے کہا کہ امریکا نے باضابطہ طور پر اجازت طلب کی تھی، جسے منظور کر لیا گیا۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ فیصلہ ایران کو خطے میں میزائل داغنے سے روکنے اور معصوم شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔ برطانوی شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانا اور ایسے ممالک کو تنازع کا نشانہ بننے سے بچانا ضروری ہے جو براہ راست اس کشیدگی میں شامل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی ایٹمی تنصیبات کو کتنا نقصان پہنچا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں
واضح رہے کہ بحرہند میں واقع ڈیگو گارشیا امریکا اور برطانیہ کا مشترکہ اسٹریٹجک فوجی اڈہ ہے۔ جو مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور بحر ہند کے خطے میں طویل فاصلے کی فضائی اور بحری کارروائیوں کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
