ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف “عظیم حملوں” کا آغاز کر دیا گیا ہے اور کارروائیاں جاری ہیں۔
اپنے بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی وارننگ دی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلیوں کو فوجی اڈوں، سیکیورٹی مراکز اور سرکاری عمارتوں سے دور رہنا چاہیے کیونکہ یہ مقامات ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔
ایرانی فورسز کی جانب سے یہ سخت بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔
یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں انتقام کی علامت سرخ پرچم لہرا دیا گیا تھا جبکہ ان کی شہادت پر ایران کے سیکورٹی چیف علی لاریجانی نے ایکس پر پوسٹ کی تھی کہ صیہونی ریاست اسرائیل اور امریکہ نے ہمارے دلوں کو آگ لگا دی ہے، اب ہم ان کے دل جلا کر راکھ کردیں گے۔
اس کے بعد علی لاریجانی نے واضح طور پر اعلان کیا کہ تہران امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا، حالانکہ کچھ رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
لاریجانی کا کہنا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی بات چیت یا مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا، خاص طور پر موجودہ کشیدگی اور تازہ حملوں کے پس منظر میں۔
انہوں نے اپنے موقف کو مضبوط کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے لیے اب امن مذاکرات کی راہ پسندیدہ نہیں ہے اور وہ اپنے دفاعی اور قومی مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا۔
