لندن: صحافی عمران ریاض خان نے اپنے وی لاگ میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف مبینہ کرپشن کے شواہد ریاستی اداروں کے پاس موجود ہیں۔ جس کے باعث انہیں قابو کیا گیا ہے۔
صحافی عمران ریاض خان نے اپنے وی لاگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو آزاد کشمیر کے معاملات کا انچارج مقرر کیا تھا۔ اور 2021 کے انتخابات کے دوران مبینہ طور پر مالی بے ضابطگیاں ہوئیں۔ جن کی رپورٹس پاکستانی انٹیلیجنس اداروں تک پہنچیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتاری کے وقت علی امین گنڈاپور کے سامنے بعض مبینہ بیان حلفی رکھے گئے۔ جن میں الزام لگایا گیا کہ انتخابی ٹکٹ یا حمایت کے بدلے رقوم طلب کی گئیں۔
عمران ریاض خان کے مطابق ایک مبینہ بیان حلفی میں کہا گیا کہ اپریل 2021 میں ایک امیدوار نے 2 کروڑ روپے ادا کیے۔ جبکہ بعد ازاں مزید 4 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم الیکٹرک گاڑی اسکیم 2026! جانیں اہلیت و اپلائی کرنے کا مکمل طریقہ
وی لاگ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ متعلقہ شخص نے اس معاملے کی شکایت پارٹی قیادت اور ایک افسر سے بھی کی تھی۔ اس نوعیت کے 4 سے 5 مزید بیان حلفی موجود ہیں۔ تاہم ان الزامات پر علی امین گنڈاپور یا ان کی جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ سرکاری یا عدالتی سطح پر بھی ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
