افغان رجیم کی دہشتگردوں کی پشت پناہی بے نقاب ہو گئی، پاکستانی فضائی کارروائی سے متاثرہ علاقوں تک میڈیا رسائی بند کر دی گئی۔
مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر پاکستان کی جانب سے افغانستان میں مبینہ دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد متاثرہ علاقوں تک میڈیا اور شہریوں کی رسائی محدود کر دی گئی ہے، جس کے باعث مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کارروائی میں پکتیکا، خوست اور ننگرہار سمیت سرحدی علاقوں میں مبینہ ٹھکانوں کو ہدف بنایا گیا۔ جریدے ساؤتھ ایشیا ٹائمز نے کہا کہ افغان میڈیا کو مکمل رسائی نہیں دی گئی اور صرف ایک مقام کی محدود فوٹیج جاری کی گئی جبکہ دیگر متاثرہ مقامات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
جریدے کے مطابق مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ حملوں کے بعد علاقوں کو گھیرے میں لے لیا گیا اور صحافیوں کی رسائی کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں، بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد طویل عرصے سے ان علاقوں میں اپنے خاندانوں کے ساتھ مقیم تھے۔
دفاعی و علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر میڈیا کو متاثرہ مقامات تک رسائی نہیں دی جا رہی تو اس سے شفافیت پر سوالات جنم لیتے ہیں، ان کے مطابق آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت نہ دینا زمینی حقائق کو چھپانے کے تاثر کو تقویت دے سکتا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی پشین میں کارروائی، 5 خارجی دہشت گرد ہلاک
دوسری جانب افغان حکام کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ اور تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون، شفاف تحقیقات اور حقائق تک آزادانہ رسائی ناگزیر ہے۔
