دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت کے بعد لاپتہ افراد کے بیانیے کے پیچھے چھپی فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی بے نقاب ہو گئی۔
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مبینہ دہشتگرد سلیم بلوچ کی ہلاکت کے بعد لاپتہ افراد کے بیانیے سے متعلق نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سلیم بلوچ کا نام لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا تاہم وہ حالیہ دہشتگرد حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف لڑتے ہوئے مارا گیا۔
اطلاعات کے مطابق فتنہ الہندوستان اور بھارتی خفیہ ایجنسی (را) سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی سلیم بلوچ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بلوچستان میں ہونے والی مختلف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھا۔
رپورٹس کے مطابق اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان سے وابستہ متعدد ہلاک دہشتگرد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل رہے ہیں، جن میں برہان، حفیظ بلوچ، عبدالحمید، راشد بلوچ اور نیول بیس حملے میں مارا جانے والا عبدالودود شامل ہیں۔
دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی اور بعض نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے بیانیے کو بنیاد بنا کر پروپیگنڈا کرتی رہی ہیں، تحقیقاتی ماہرین کے مطابق لاپتہ افراد کا بیانیہ بعض اوقات دہشتگرد تنظیموں کی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی پشین میں کاروائی، 5 خارجی دہشت گرد ہلاک
ماہرین کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندوستان مبینہ طور پر بلوچ نوجوانوں کے جذبات کو ابھار کر انہیں مسلح کارروائیوں کی جانب مائل کرتی ہے جبکہ بعض حلقے اس بیانیے کو ایک ”سافٹ کور“ تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ایسے عناصر کو بے نقاب کیا جاتا رہے گا۔
