بینکوں میں موجود وہ رقوم جن پر گزشتہ 10 سال سے کوئی لین دین نہیں ہوا، انہیں غیر دعویٰ شدہ (Unclaimed) ڈپازٹس قرار دیا جاتا ہے۔ ایسے اکاؤنٹس جن میں نہ کوئی ٹرانزیکشن ہوئی ہو اور نہ ہی اکاؤنٹ ہولڈر نے اسٹیٹمنٹ حاصل کی ہو، قانون کے مطابق اسٹیٹ بینک کے حوالے کر دیے جاتے ہیں۔
سائبر خطرات کیخلاف ریڈ الرٹ، اسٹیٹ بینک کا ملک گیر پلان جاری
بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 کے سیکشن 31 کے تحت تمام بینکوں اور ڈی ایف آئیز پر لازم ہے کہ وہ ایسے فکسڈ ڈپازٹس، دیگر رقوم، چیکس، ڈرافٹس اور بلز آف ایکسچینج جو 10 سال تک غیر فعال رہیں، انہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالے کریں۔ تاہم کم عمر افراد، حکومتی اداروں یا عدالتوں کے نام پر موجود اکاؤنٹس اس میں شامل نہیں ہوتے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شہریوں کی سہولت کے لیے غیر دعویٰ شدہ رقوم کی فہرست جاری کر رکھی ہے، جسے متعلقہ سال اور بینک کے مطابق دیکھا جا سکتا ہے۔ اس فہرست میں برانچ کا نام، صوبہ، اکاؤنٹ ہولڈر کا نام، شناختی کارڈ نمبر، پتہ اور رقم کی تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔ شہری اپنی مطلوبہ معلومات کمپیوٹر پر Ctrl+F کے ذریعے تلاش کر سکتے ہیں۔

اگر کوئی شہری اپنی یا اپنے مرحوم عزیز کی غیر دعویٰ شدہ رقم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے متعلقہ بینک برانچ سے رابطہ کرنا ہوگا جہاں اکاؤنٹ کھولا گیا تھا یا جہاں سے متعلقہ مالی دستاویز قابلِ ادائیگی تھی۔ اگر وہ برانچ بند یا منتقل ہو چکی ہو تو اسی بینک کی قریبی برانچ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے سونے کے ذخائر کی مالیت کی تفصیلات جاری کر دیں
رقم کی واپسی کے لیے درخواست گزار کو دستخط شدہ درخواست، شناختی کارڈ کی کاپی اور دیگر ضروری دستاویزات جمع کرانا ہوں گی۔ اگر اکاؤنٹ ہولڈر کا انتقال ہو چکا ہو تو جانشینی سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا، جبکہ ایک لاکھ روپے سے کم رقم کی صورت میں تمام ورثاء کا حلف نامہ اور دیگر دستاویزات بھی درکار ہوں گی۔
مرد ملازم کو پدری رخصت نہ دینے پر اسٹیٹ بینک پر5لاکھ روپے جرمانہ عائد
بینک برانچ درخواست اور متعلقہ ریکارڈ اسٹیٹ بینک کو بھجوائے گی، جہاں تصدیق کے بعد رقم متعلقہ بینک کو واپس کی جائے گی اور پھر درخواست گزار کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔
