وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ زیادہ تر رعایتی اور طویل مدتی نوعیت کا ہے۔
اعلامیے کے مطابق مجموعی 138 ارب ڈالر کی رقم میں نجی اور دیگر واجبات بھی شامل ہیں جبکہ بیرونی قرض تقریباً 92 ارب ڈالر ہے، جس پر اوسط سود تقریباً 4 فیصد بنتا ہے۔
وفاق نے پانچ ماہ میں 4 ارب 28 کروڑ ڈالر کابیرونی قرض حاصل کیا
وزارت خزانہ نے بتایا کہ سود کی ادائیگیوں میں حالیہ اضافہ عالمی شرحِ سود میں تیزی اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حاصل کردہ فنڈنگ کے تناظر میں ہوا، لہٰذا بیرونی قرضوں پر 8 فیصد تک سود کی ادائیگی کا تاثر درست نہیں۔
خیبرپختونخوا حکومت کا سرکاری ملازمین کو بلاسود قرضہ دینے کا فیصلہ
اعلامیے کے مطابق مجموعی بیرونی قرضے اور واجبات میں حکومتی قرض شامل نہیں، اس میں سرکاری اور سرکاری ضمانت شدہ قرضے، پبلک ، نجی سیکٹر کے قرضے، بینکوں کی بیرونی ذمہ داریاں اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاروں کے درمیان کمپنیوں کے باہمی واجبات شامل ہیں۔ مجموعی رقم کو بیرونی قرض سے الگ سمجھنا ضروری ہے، جو تقریباً 92 ارب ڈالر ہے۔
