ناشتہ کی میز ہو یا کسی خاص پکوان کی تیاری، انڈہ ہماری روزمرہ خوراک کا ایسا جزو بن چکا ہے جس کے بغیر باورچی خانہ ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ مگر اکثر یہ سوال ذہن میں ضرور آتا ہے کہ کئی ہفتوں سے رکھے گئے انڈے اب بھی قابلِ استعمال ہیں یا نہیں۔
زیادہ تر افراد صرف تاریخ دیکھ کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انڈے خراب ہو چکے ہوں گے، حالانکہ ماہرین غذائیت کے مطابق اگر انڈوں کو درست درجہ حرارت پر محفوظ کیا جائے تو وہ 3 سے 5 ہفتوں تک باآسانی استعمال کے قابل رہ سکتے ہیں۔ اس لیے محض وقت گزر جانے کی بنیاد پر انہیں ضائع کر دینا ضروری نہیں۔
چاول یا روٹی: ہاضمہ بہتر بنانے اور وزن کم کرنے کیلئے کون سا بہتر؟
ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ انڈوں کو فریج کے دروازے میں رکھنے کے بجائے فریج کے اندرونی، نسبتاً زیادہ ٹھنڈے حصے میں محفوظ کیا جائے۔ دروازہ بار بار کھلنے سے درجہ حرارت میں تبدیلی آتی رہتی ہے، جو انڈوں کی کوالٹی کو متاثر کر سکتی ہے۔
اصل پریشانی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انڈہ پکانے کے لیے توڑا جائے اور وہ خراب نکل آئے۔ ایسی صورت میں نہ صرف انڈہ ضائع ہوتا ہے بلکہ اگر وہ کسی تیار ہوتی ڈش میں شامل ہو چکا ہو تو پوری ڈش بھی پھینکنی پڑ سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈے کو توڑے بغیر بھی اس کی تازگی جانچنے کا ایک نہایت آسان اور مؤثر گھریلو طریقہ موجود ہے۔ اس کے لیے کسی خاص آلے کی ضرورت نہیں، صرف ایک گلاس ٹھنڈا پانی کافی ہے۔
انگلیوں میں چھپی پھیپھڑوں کے کینسر کی ابتدائی علامت: ماہرین کی وارننگ
سادہ طریقہ کار :

انڈے کو احتیاط سے پانی میں رکھیں۔
• اگر انڈہ نیچے جا کر پہلو کے بل لیٹ جائے تو وہ تازہ ہے۔
• اگر وہ نیچے تو چلا جائے مگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو بھی قابلِ استعمال ہے، البتہ کچھ پرانا ہو چکا ہوتا ہے۔
• لیکن اگر انڈہ پانی کی سطح پر تیرنے لگے تو یہ واضح علامت ہے کہ وہ خراب ہو چکا ہے اور اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
ماہرین اس کی سائنسی وجہ بھی بیان کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ انڈے کے اندر ہوا کی مقدار بڑھتی جاتی ہے، جس سے اس کی کثافت کم ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً وہ پانی میں تیرنے لگتا ہے۔ یہی سادہ سا اصول انڈے کی تازگی کا قابلِ اعتماد اشارہ بن جاتا ہے۔
یہ معمولی سا تجربہ نہ صرف کھانے کے ضیاع سے بچا سکتا ہے بلکہ روزمرہ زندگی میں ایک کارآمد گھریلو تدبیر بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی اس طریقے کو خاصی پذیرائی مل رہی ہے اور صارفین اسے مفید اور آسان گھریلو ٹپ قرار دے رہے ہیں۔
