وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ عمران خان کی بینائی پر پروپیگنڈا کیا گیا، علیمہ خان معاملے کو ویٹو کر دیتی تھیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بھارت 100فیصد پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے، بھارت بلوچستان میں تباہی کیلئے بڑا پیسہ لگا رہاہے، بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت موجودہیں، ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم نے بھارتی دہشت گردی کا دنیا کو نہیں بتایا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے تاہم ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو احتجاج اور دھاوا بولنے کا شوق ہے تو پھر نتائج کے لیے بھی تیار رہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب علاج اور دیگر معاملات طے ہو چکے تو پھر سڑکیں اور پل کیوں بند کیے جا رہے ہیں۔
وزیر داخلہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت، خصوصاً بینائی سے متعلق معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے پروپیگنڈا اور سیاست کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن سے رابطہ رکھا اور یقین دہانی کرائی کہ بانی پی ٹی آئی کو آئین اور قانون کے تحت علاج کی ہر ممکن سہولت دی جائے گی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے ماہر امراض چشم کا نام مانگا، سرکاری و نجی ڈاکٹرز کا انتخاب کیا گیا اور معائنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کو ایک ہفتے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے بقول معالجین نے بھی یہی مؤقف اپنایا کہ وہ وہی علاج کر رہے ہیں جو ضروری تھا جبکہ سیاسی رہنماؤں نے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا۔
عمران خان کو اڈیالہ جیل میں حاصل سہولیات کے بارے میں رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض افراد بانی پی ٹی آئی کی صحت سے زیادہ اپنی سیاست کے لیے فکرمند تھے اور اگر نیت درست ہوتی تو معاملہ پہلے روز ہی حل ہو جاتا، انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سڑکیں بند کی گئیں، آج بھی لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور اسلام آباد کے ریڈ زون کو بھی بلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ عدالت نے بھی سڑکوں کی صورتحال بہتر بنانے کا حکم دیا ہے اور حکومت قانون کے مطابق معاملات کو نمٹائے گی۔
