وفاقی محتسب نے صنفی بنیادوں پر امتیاز برتنے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرادیا۔30دن کی پدری رخصت نہ دینے پر مرکزی بینک پر5لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا گیا۔
فوسپا کے مطابق اسٹیٹ بینک نے ایک مرد ملازم کو پدری رخصت دینے سے انکار کیا،آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 38 عوام کی سماجی اور معاشی فلاح و بہبود کی ضمانت دیتا ہے۔
نئے کرنسی نوٹوں کی چھپائی کابینہ کی منظوری کے بعد ہو گی ، گورنر اسٹیٹ بینک
آئین ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ بغیر کسی امتیاز کے انسانی وقار کے مطابق کام کے حالات، منصفانہ سلوک اور سماجی انصاف کو یقینی بنائے۔
پدری رخصت سے انکار، پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ دی ورک پلیس ایکٹ کے تحت صنفی بنیادوں پر امتیاز کی صورت میں ہراسمنٹ کے مترادف ہے۔
اسٹیٹ بینک نے بھی تعطیل کا اعلان کردیا
شکایت اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن کے ایک افسر کی جانب سے دائر کی گئی تھی،ملازم کی پدری رخصت کی درخواست اس بنیاد پر مسترد کر دی گئی کہ متعلقہ پالیسی موجود نہیں۔حالانکہ قانون نافذ العمل تھا۔
