وکیل سلمان صفدر کی بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق سات صفحات پر مشتمل رپورٹ سامنے آ گئی۔
رپورٹ میں عمران خان کی آنکھ کے فوری اور مکمل طبی معائنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق سلمان صفدر نے عدالتی احکامات پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اور ان کی صحت سے متعلق تفصیلی مشاہدات قلمبند کیے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے معائنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم سفارش کی گئی ہے کہ ان کا طبی معائنہ کسی بھی مستند ماہر ڈاکٹر سے کرایا جا سکتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے مطابق اکتوبر 2025 تک ان کی نظر 6/6 تھی لیکن اکتوبر کے بعد دائیں آنکھ سے دھندلا دکھائی دینا شروع ہوا۔ انہوں نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بارہا آنکھ کی تکلیف سے آگاہ کیا تاہم شکایات کے باوجود تین ماہ تک علاج نہیں کرایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بعد ازاں پمز کے ماہر چشم ڈاکٹر عارف نے ان کا معائنہ کیا لیکن علاج کے باوجود دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔
دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آنکھ میں خون جمنے سے شدید نقصان پہنچا اور ملاقات کے دوران بھی آنکھ سے پانی آ رہا تھا، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں بروقت طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں اور گزشتہ پانچ ماہ سے انہیں وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت کا معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، چیف جسٹس
تنہائی کے باعث ان کی ذہنی صحت متاثر ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، بانی پی ٹی آئی نے گرمی اور مچھروں کے باعث نیند متاثر ہونے، سیل میں فریج نہ ہونے سے فوڈ پوائزننگ کی شکایت اور ذاتی ڈاکٹر تک رسائی نہ دینے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں، کتابوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے، منصفانہ قانونی ٹرائل دیا جائے اور ان کی بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرانے کا انتظام کیا جائے۔
