پاکستانی کرکٹر ناصر جمشید نے میچ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر بالآخر سات سال بعد معافی مانگ لی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وہ ماضی کو یاد کرکے آبدیدہ ہو گئے اورکہا کہ جیل میں گزارا گیا وقت ان کی زندگی کا مشکل ترین دور تھا، حتیٰ کہ وہ خودکشی تک کے بارے میں سوچتے رہے۔
انہوں نے پاکستانی قوم اور دنیا بھر کے کرکٹ مداحوں سے اپنے کئے پرمعذرت کی اور نوجوان کھلاڑیوں کو نصیحت کی کہ کبھی بدعنوانی کے راستے پرنہ چلیں۔
وسیم اکرم پی ایس ایل ٹیم سیالکوٹ اسٹیلینز کے صدر مقرر
انہوں نے بتایا کہ گھریلو مسائل، والد کے ایکسیڈنٹ اور مالی دباؤ کے باعث انہوں نے غلط فیصلہ کیا اور شارٹ کٹ اختیار کیا، وکیل کے مشورے پرانہوں نے ابتدا میں اعتراف جرم نہیں کیا اور کرکٹ بورڈ سے رابطے بھی منقطع کردیئے تھے۔
یاد رہے کہ مانچسٹر کراؤن کورٹ نے اسپاٹ فکسنگ کیس میں انہیں 17 ماہ قید کی سزا سنائی تھی جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انسدادِ کرپشن یونٹ کی تحقیقات کے بعد 10 سالہ پابندی عائد کی۔
ناصر جمشید نے چیئرمین پی سی بی سے اپیل کی ہے کہ ان کی پابندی کا باقی ایک سال معاف کر دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ کرکٹ سے وابستہ ہوسکیں۔
