پشاور ہائیکورٹ میں محکمہ جنگلات کے افسر کی بریت کے خلاف نیب کی اپیل پر سماعت ہوئی، جس کی سربراہی جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے کی۔
عدالت نے فاریسٹ آفیسر کے خلاف نیب کی اپیل مسترد کر دی، جس سے افسر کی بریت برقرار رہی، عدالت میں فاریسٹ آفیسر کے وکیل دانیال چمکنی ایڈووکیٹ اور نیب اسپیشل پراسیکیوٹر پیش ہوئے۔
وکیل نے دلائل دیے کہ اپیل کنندہ کاغان کے علاقے ٹل صحت خیل کا چیئرمین رہا اور نیب نے درختوں کی کٹائی کے معاملے پر ریفرنس دائر کیا جبکہ احتساب عدالت نے 2011 میں ملزم کو بری کردیا تھا۔
بلوچستان حکومت نے 39 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست جاری کر دی
وکیل نے کہا کہ نیب کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں اور ملزم پر لگائے گئے مقدمات بے بنیاد ہیں۔
نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ کاغان میں غیر قانونی درختوں کی کٹائی ہوئی اور اس میں تقریباً 5 کروڑ روپے کی خورد برد ہوئی۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے نیب کی اپیل خارج کر دی اور فاریسٹ آفیسر کی بریت کو برقرار رکھا، جس سے محکمہ جنگلات کے افسر کے قانونی موقف کو عدالت کی تائید حاصل ہو گئی۔
