145 دہشتگرد ہلاک کیے، ہم ایک ہزار سال تک دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑنے کو تیار ہیں، سرفراز بگٹی

145 دہشتگرد ہلاک کیے، ہم ایک ہزار سال تک دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑنے کو تیار ہیں، سرفراز بگٹی

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے ساتھ مقابلے میں 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 145 دہشتگردوں کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں۔

کوئٹہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سرفراز بگٹی کا کہنا تھا دہشتگردوں نے 31 معصوم شہریوں کو شہید کیا، گوادر میں دہشتگردوں نے پانچ خواتین اور تین بچوں کو شہید کیا، شہید ہونے والی فیملی کا تعلق خضدار سے تھا اور وہ بلوچ تھے، یہ خود کو بلوچ کہتے ہیں لیکن یہ بلوچ نہیں دہشت گرد ہیں جبکہ کوئٹہ میں بھی 5 سے 10 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ انہوں نے معصوم شہریوں کے قتل عام پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن مکمل، 133 دہشت گرد ہلاک، 15 جوان اور 18 عام شہری شہید

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشتگرد حملوں میں شہید ہونے والوں کے ورثا کے ساتھ ریاست کھڑی ہے اور شہدا کے بچوں کی دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری ہے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے تمام دہشتگرد حملوں کو ناکام بنایا، انہوں نے فورسز کو خراج تحسین پیش کیا، ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے جانی و مالی نقصان سے بچنے کے لیے دہشتگردوں کے خلاف انتہائی محتاط آپریشن کیے گئے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ ہم ایک ہزار سال تک بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں، دہشتگرد ہم سے پاک سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں لے سکتے اور ریاست کبھی سرنڈر نہیں کرے گی، انہوں نے کہا کہ جوانوں کا خون اتنا سستا نہیں، ایک ایک دہشتگرد کو چن چن کر انجام تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹس موجود تھیں کہ دہشتگردی کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، اسی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں تاکہ دہشتگردوں کو ان کے ٹھکانوں سے نکالا جا سکے، وزیراعلیٰ کے مطابق کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہیں۔

سرفراز بگٹی نے الزام عائد کیا کہ بدقسمتی سے بھارت کی ایما پر بلوچ خون کو ایندھن بنایا جا رہا ہے، جبکہ دہشتگردی کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور خطے میں اس کی اہمیت کو کم کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت کی پراکسی وار کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے یہ بھی کہا کہ افغان ریاست پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور افغان جنگ کا اسلحہ اب بھی مارکیٹ میں پھیلا ہوا ہے جبکہ حالیہ کارروائیوں میں افغان دہشتگرد بھی شامل تھے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کا نہ کوئی قبیلہ ہوتا ہے اور نہ کوئی قوم، دہشتگرد صرف دہشتگرد ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ ویسا ہی نمٹا جائے گا۔ تشدد کے واقعات کو محرومی سے جوڑنے کا کوئی جواز نہیں۔

عالمی بینک کے صدر پاکستان پہنچ گئے، 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ پر اہم پیشرفت کی توقع

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں گورننس ماڈل بہتر ہو رہا ہے، نوجوانوں کو میرٹ پر روزگار مل رہا ہے اور صوبے کو امن کی جانب لے کر جایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حق و باطل کی جنگ ہے اور پاکستان کبھی نہیں ہارے گا۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp