لاہور میں نالے میں ماں اور بیٹی کے گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام متعلقہ حکام کو بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ حادثے کے وقت رکشہ میں سوارماں اوربیٹی اندھیرے کی وجہ سے کھلے مین ہول میں گرگئیں متاثرہ خاندان لاہورمیں اپنے رشتہ داروں کے گھر پررہائش پذیر تھا۔
حادثے کے فوری بعد ریسکیو حکام نے کارروائی شروع کی اور متاثرہ افراد کی لاشیں برآمد کی گئیں، جن میں ماں کی لاش کل اور بیٹی کی لاش آج ملی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کو واقعے کی جگہ پر جاری تعمیراتی کام، کھلے مین ہولزاورحفاظتی اقدامات میں غفلت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ سائٹ پر سپروائزر، کنسلٹنٹ اور انجینئر سمیت تمام موجودہ افراد واقعہ کے ذمہ دار ہیں اور اگر بروقت احتیاطی تدابیراختیارکی جاتیں یا جائے وقوعہ پر حفاظتی کپڑا یا ڈھکن لگایا جاتا تو حادثہ روکا جا سکتا تھا۔
مریم نواز نے اجلاس میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورے پنجاب میں ترقیاتی منصوبے عوام کو فائدہ دینے کے لیے ہوتے ہیں، جان لینے کے لیے نہیں۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ تعمیراتی سائٹ پر ناقص انتظامات، لائٹ کا نہ ہونا اور پارکنگ کے لیے دیے گئے ٹوکن جیسے اقدامات کی وجہ سے یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
لاہور: پتنگ بازی کے سامان کی قلت، بسنت پھیکی پڑنے کا خدشہ
انہوں نے کمشنر لاہور، اسسٹنٹ کمشنر، ایم ڈی واسا اور ڈی جی ایل ڈی اے سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ذمہ دار قرار دیا اور سوال کیا کہ حادثے کا فوری دورہ کیوں نہیں کیا گیا اور متاثرہ افراد کے بجائے خاتون کے شوہر کو تھانے کیوں لے جایا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے حکم دیا کہ پروجیکٹ منیجر، ڈائریکٹر اورکنسلٹنٹ کو فوری گرفتارکیا جائے اور پروجیکٹ ڈائریکٹر ٹیپا اور دیگر ذمہ داران کو نوکری سے برخاست کیا جائے۔
متاثرہ خاندان کے حق میں مجرمانہ غفلت کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور متاثرہ فیملی کو ایک کروڑ روپے کے ہرجانے کی رقم فراہم کی جائے، جو ٹھیکیدار سے وصول کی جائے گی۔
مریم نواز نے کہا کہ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی مجموعی نااہلی اورغفلت کا نتیجہ ہے، انہوں نے سخت کہا کہ اگریہ ان کی یا کسی بھی اہلِ خانہ کی بیٹی ہوتی تو پورا نظام ہل جاتا اوراس واقعے کو نظرانداز نہیں کیا جاتا۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ آئندہ کسی بھی منصوبے میں عوام کی جان کو خطرے میں نہ ڈالا جائے اور تمام تعمیراتی سائٹس پر حفاظتی اقدامات لازمی یقینی بنائے جائیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات کے تحت واقعہ کے تمام ذمہ داران کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور متاثرہ خاندان کی مالی، قانونی اور اخلاقی حمایت کو یقینی بنایا جائے گا۔
مریم نواز نے کہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں اس نوعیت کا حادثہ ناقابل قبول ہے اور اس کے ذمہ داران کو کسی رعایت کے بغیر سخت سزا دی جائے گی۔

