تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ کا کنٹرول چھوڑنے سے انکار کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ کے مستقبل سے متعلق اپنا منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج دریائے اردن سے بحیرۂ روم تک پورے علاقے پر سیکیورٹی کنٹرول برقرار رکھے گی۔ جس میں غزہ بھی شامل ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو سے قبل حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا ناگزیر ہے۔ جس میں سرنگوں سمیت اس کے پورے عسکری ڈھانچے کا خاتمہ شامل ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ جب تک حماس غیر مسلح نہیں ہو جاتی۔ غزہ پر سیکیورٹی کنٹرول اسرائیلی فوج کے پاس ہی رہے گا۔ تاہم مصر سے ملحق رفح کراسنگ جلد دونوں جانب کے لیے کھولی جائے گی۔ لیکن اس راستے سے صرف افراد کی آمدورفت کی اجازت ہو گی، سامان کی ترسیل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ تقریباً 50 افراد اور ان کے اہلخانہ کو داخلے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ تاہم تمام افراد کی سخت سیکیورٹی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلا دیش کا ڈرون سازی کا معاہدہ، بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی
اسرائیلی وزیر اعظم نے واضح کیا کہ کسی شخص کو غزہ چھوڑنے سے روکا نہیں جائے گا۔ تاہم انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خودمختار اور علیحدہ فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
