مصری دارالافتاء نے قرآن مجید کی تفسیرکے لیے مصنوعی ذہانت کی ایپلیکیشنز کا استعمال ممنوع قرار دے دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق مصری دار الافتاء کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ایپلیکیشنز پر اعتماد کرنا شرعی لحاظ سے ممنوع ہے۔ مصری دار الافتاء کا فتوی ایک سائل کے سوال کے جواب میں جاری کیا گیا۔
پاکستان میں کتنی مساجد، مدارس اور تعلیمی ادارے ہیں؟ اعداد شمار جاری
دار الافتاء نے کہا ہے کہ مستند ذرائع پر انحصار نہ کرنے سے گمراہ کن معلومات پھیلنے اور غلط فہمیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے، قرآن مجید کی آیات کی تفسیر کے لیے مستند تفاسیر، باوثوق مفسرین اور دینی اداروں سے رجوع کیا جائے۔
عرب میڈیا کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ایپلیکیشنز میں چیٹ جی پی ٹی بھی شامل ہے۔
