عالمی مالیاتی ادارے گولڈ مین سیچز(Goldman Sachs) نے سونے کی قیمت سے متعلق نئی پیش گوئی کی ہے جس کے مطابق 2026 کے اختتام تک فی اونس سونے کی قیمت 5,400 ڈالر تک جاسکتی ہے۔
بروکریج ہاؤس کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ نجی شعبے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری ہے، جو عالمی پالیسی خدشات کے خلاف ایک مؤثر تحفظ سمجھی جا رہی ہے۔
سونا، اسٹاک مارکیٹ یا پلاٹ،کن پاکستانی سرمایہ کاروں کو 2025 میں زیادہ فائدہ ہوا؟
سوموار کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت 5097 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ رواں سال 2026 کے آغاز سے اب تک سونے کی قیمت میں 13 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے، جبکہ گزشتہ سال سونے کی قیمت میں 64 فیصد کا غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا۔
گولڈمین سیچز نے جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہا کہ ادارہ یہ فرض کر رہا ہے کہ نجی شعبے کے وہ سرمایہ کار جو عالمی پالیسی اور جغرافیائی خدشات کے پیش نظر سونے کو بطور ہیج استعمال کر رہے ہیں، وہ 2026 کے دوران اپنے سونے کے ذخائر فروخت نہیں کریں گے۔ اس رویے کے باعث سونے کی قیمت کے لیے ابتدائی سطح پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گئی ہے، جس نے قیمتوں کے اندازے کو اوپر کی جانب دھکیل دیا ہے۔
پاکستانی ہر سال کتنے کلو سونا خریدتے ہیں؟ اعدادوشمار جاری
رپورٹ کے مطابق، ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مرکزی بینک بھی اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں تنوع لانے کے لیے تیزی سے سونے کی خریداری کر رہے ہیں، تاکہ ڈالر اور دیگر کرنسیوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔ یہی رجحان عالمی منڈی میں سونے کی طلب کو مزید تقویت دے رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی کشیدگیاں اور مالیاتی پالیسیوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہا تو سونا آئندہ بھی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مضبوط محفوظ سرمایہ کاری بنا رہے گا، اور گولڈمین سیچز کی پیش گوئی حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے۔
