سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا بے دخلی کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مالک کے انتقال کے بعد قانونی وارث ازخود مالک بن جاتے ہیں، قانونی وارث کا مالک بن جانے کے بعد نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں، متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی نہیں۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ مالک کے انتقال کے بعد بیٹے نے کرایہ اور بقایاجات ادا کرنے کا مطالبہ کیا، کرایہ داروں نے مالک کے جنازے میں شرکت کا اعتراف کیا، مگر کرایہ ادا نہیں کیا، کرایہ قانونی وارثوں کو دینے کے بجائے متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرایا جاتا رہا۔
عدالت نے کہا کہ قانونی وارث نے کرایہ ادا نہ کرنے پر کرایہ داروں کے خلاف بے دخلی کی درخواست دائر کی، کرایہ داروں کا مؤقف تھا کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے وہ بے دخلی سے محفوظ ہیں۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ نوٹس ملنے کے بعد متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانوناً ادائیگی تصور نہیں ہوتا، قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا اور متوفی کے نام پر جمع کرانا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے، جان بوجھ کر ڈیفالٹ کرنے والے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ہیں۔
خاتون کی رضامندی کے بغیر طلاق کو خلع میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ
سندھ ہائیکورٹ نے کرایہ داروں کو دکانیں خالی کرکے 60 دن میں مالک کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس سنا اور جسٹس شکیل احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
