روسی صدارتی انتظامیہ کے نائب سربراہ میکسم اوریشکن نے کہا ہے کہ امریکہ میں منجمد ایک ارب ڈالر کے روسی اثاثے روس ہی کی ملکیت ہیں۔
ایک انٹرویو میں اوریشکن کا کہنا تھا کہ اگر یہ اثاثے بحال ہوتے ہیں تو ماسکو خود اس رقم کے استعمال کا طریقہ طے کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اثاثوں کی منتقلی کا عمل اس وقت ممکن ہو گا جب امریکی بینک روس کے احکامات پر عمل کریں ، بات اتنی ہی سادہ ہے۔
روس نے جاسوسی کے الزامات پر برطانوی سفارتکار کو ملک بدر کردیا
یاد رہے کہ صدر پیوٹن نے حال ہی میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ روس فلسطینی عوام کی مدد کے لیے ایک ارب ڈالر ’بورڈ آف پیس‘ کے ذریعے مختص کرنے کے لیے تیار ہے۔
