امریکی وزیر خزانہ نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی غصے بھرے ردعمل سے گریز کریں اور ڈاووس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بیٹھ کر گرین لینڈ کے الحاق سے متعلق ان کے دلائل کو سنیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ میں سب سے کہتا ہوں کہ گہری سانس لیں اور ان غصے بھرے ردعمل سے بچیں جو ہم نے دیکھے ہیں اور اس تلخی کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا ذکر چھیڑ دیا
دوسری جانب فرانس نے امریکی صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہونےسے انکار کردیا، فرانسیسی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ فرانس فی الحال بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہو گا۔
بورڈ آف پیس کا چارٹر یو این کی غزہ سے متعلق قرارداد سے مطابقت نہیں رکھتا ،بورڈ آف پیس کے بعض نکات اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے متضاد ہیں ۔
ادھر برطانیہ نے بھی امریکی صدر کے بورڈ آف پیس کا رکن بننے سے انکار کردیا، برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ قانونی معاہدہ کہیں زیادہ وسیع اور سنجیدہ نوعیت کے معاملات کو جنم دیتا ہے۔
گرین لینڈ کے معاملے پر ٹرمپ کے سامنے نہیں جھکوں گا ، برطانوی وزیراعظم
برطانیہ کو تحفظات لاحق ہیں کہ پیوٹن کو اس امن فورم کا حصہ بنایا جا رہا ہے ،یوکرین جنگ بندی اور امن کیلئے تاحال پیوٹن نے کوئی سنجیدہ عزم نہیں دکھایا۔
