کراچی: تفتیشی حکام نے گل پلازہ آتشزدگی کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی۔ جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی بلکہ ممکنہ طور پر ماچس یا لائٹر سے لگی۔
حکام کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات سے تیار کی گئی ہے۔ جس کے مطابق گل پلازہ میں آگ سب سے پہلے ایک مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگی۔ جہاں اس وقت بچے موجود تھے اور کھیل رہے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے۔ جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ دکان میں موجود سامان کو لپیٹ میں لینے کے بعد بجلی کی تاروں کے ذریعے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد نے باہر نکلنے کی کوشش کی۔ تاہم خارجی راستوں پر دروازے بند ہونے کے باعث شدید بھگدڑ مچ گئی۔
تحقیقات کے مطابق آتشزدگی کے وقت عمارت میں زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔ جبکہ چھت کی جانب جانے والے راستے پر گرل نصب تھی۔ جس سے انخلا میں مزید مشکلات پیش آئیں۔
آگ کے نتیجے میں عمارت میں نصب سی سی ٹی وی نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ جس کی وجہ سے واقعے کی مکمل ویڈیوز دستیاب نہیں ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کو پرائیوٹائز کردیں، ہم سب مل کر خرید لیں گے اور بہت اچھا چلائیں گے، تابش ہاشمی
حکام کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے تعین کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
