بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے صدر امین الاسلام نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بنگلا دیش کی شمولیت کے لیے آئی سی سی سے ’’معجزے‘‘ کی امید ظاہر کی ہے۔ بی سی بی کو بدھ کے روز آئی سی سی کے بورڈ اجلاس میں خبردار کیا گیا کہ اگر ٹیم بھارت نہیں جائے گی تو اسے ورلڈ کپ سے خارج کر دیا جائے گا۔
امین الاسلام نے کہا، “میں نے آئی سی سی بورڈ سے حکومت سے آخری بار بات کرنے کے لیے وقت مانگا۔ انہوں نے یہ درست بات تسلیم کی اور مجھے 24 سے 48 گھنٹے کا وقت دیا۔ ہم حکومت پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے۔ بھارت ہمارے لیے محفوظ نہیں ہے۔ ہم اب بھی چاہتے ہیں کہ میچز سری لنکا میں ہوں۔”
آئی سی سی کا ٹی20ورلڈکپ میں بنگلا دیش کی جگہ کسی اور ٹیم کو شامل کرنےکا فیصلہ
صدر بی سی بی نے مزید کہا کہ ورلڈ کپ کھیلنے کا جذبہ ہر ایک میں موجود ہے۔ “بنگلہ دیش کے کھلاڑی کھیلنا چاہتے ہیں، حکومت بھی چاہتی ہے کہ ٹیم حصہ لے، لیکن بھارت میں سیکیورٹی کے خدشات ہیں۔ حکومت فیصلے میں صرف کھلاڑیوں کو نہیں بلکہ سب کے تحفظات کو مدنظر رکھتی ہے۔”
کرک انفو کے مطابق، امین الاسلام ہی بی سی بی کی طرف سے آئی سی سی اجلاس میں شامل ہوئے۔ ویڈیو کانفرنس کے دوران انہیں موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ بی سی بی کی تجویز کہ بنگلا دیش اپنے گروپ کے میچز کو آئرلینڈ یا زمبابوے کے ساتھ بدل دے، مسترد کر دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق سری لنکا نے کسی نئے ٹیم کے شامل ہونے کی اجازت نہیں دی۔
بنگلا دیش کا گروپ سی میں انگلینڈ، اٹلی، ویسٹ انڈیز اور نیپال کے ساتھ شیڈول ہے۔ ان کا پہلا میچ 7 فروری کو کولکتہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوگا۔
سیکیورٹی کے مسائل اس وقت سامنے آئے جب بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے بنگلا دیش کے فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل 2026 اسکواڈ سے ریلیز کرنے کا حکم دیا۔
بی سی بی نے حکومت سے مشاورت کے بعد آئی سی سی کو خط لکھا کہ ٹیم بھارت نہیں جائے گی، لیکن آئی سی سی نے اس مسئلے کو ورلڈ کپ کی سیکیورٹی کے لیے غیر متعلق قرار دیا۔
