شام کے معزول صدر بشار الاسد کے چچا اور سابق صدر حافظ الاسد کے بھائی رفعت الاسد 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ذرائع کے مطابق رفعت الاسد کا انتقال متحدہ عرب امارات میں ہوا۔العربیہ نے رائٹرز کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ رفعت الاسد کو ناقدین طویل عرصے سے “ حما کا قصاب” کے نام سے پکارتے رہے ہیں۔
معزول شامی صدر بشار الاسد کو ماسکو میں زہر دیکر قتل کرنے کی کوشش
رفعت الاسد 1982 میں حما شہر میں اخوان المسلمون کی بغاوت کو کچلنے والی فوجی کارروائی کے مرکزی کردار سمجھے جاتے ہیں، جس میں ہزاروں شہری جان سے گئے تھے۔
رفعت الاسد سابق فوجی افسر تھے ،1970 میں اپنے بھائی حافظ الاسد کے ساتھ مل کر فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قابض ہونے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں وہ اسد حکومت میں ایک طاقتور شخصیت بن کر ابھرے اور ایلیٹ فورسز کی کمان سنبھالی۔
شام کے عبوری صدر احمد الشرع پہلے غیرملکی دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے
2000 میں حافظ الاسد کی موت کے بعد رفعت الاسد نے اقتدار اپنے بھتیجے بشار الاسد کو منتقل کیے جانے کی مخالفت کی اور خود کو شام کا جائز جانشین قرار دیا، تاہم یہ چیلنج عملی طور پر بے اثر ثابت ہوا اور وہ برسوں جلاوطنی میں رہے۔
