روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس یوکرین میں اپنے اہداف سفارتی یا فوجی ذرائع سے حاصل کرے گا اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔
ایک بیان میں صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ یوکرین میں سیکیورٹی بفر زون کو مزید وسعت دینے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ روس کی سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
پیوٹن نے کہا کہ خصوصی فوجی آپریشن کے تمام اہداف بلا شبہ حاصل کیے جائیں گے اور روس اپنے قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ روسی افواج کو درپیش خطرات کا مؤثرجواب دیا جا رہا ہے اور زمینی حقائق کے مطابق حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔
حجاب واقعہ، خاتون ڈاکٹر کا حکومت کی ملازمت کرنے سے انکار، نتیش کمار کیخلاف مقدمہ درج
روسی صدر نے انکشاف کیا کہ روس ایسے جدید اورنئے ہتھیار تیارکررہا ہے جو اس وقت کسی اور ملک کے پاس موجود نہیں۔ ان کے مطابق دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں روس مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔
پیوٹن نے بتایا کہ درمیانے فاصلے تک مارکرنے والا ہائپرسونک میزائل بھی جنگی کارروائیوں میں شامل کیا جائے گا، جو روس کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کریگا۔
صدر پیوٹن کے بیان کو روس اوریوکرین جنگ میں ممکنہ شدت اور طویل المدتی حکمت عملی کی عکاسی قراردیا جا رہا ہے جبکہ عالمی سطح پراس اعلان کو تشویش کی نظرسے دیکھا جا رہا ہے۔
