وفاقی وزیراطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سڈنی واقعے پر بھارت نے بغیرشواہد اور تصدیق کے پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنایا۔
غیر ملکی میڈیا سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سڈنی اور بونڈائی بیچ کے واقعے پر بغیر شواہد اور تصدیق کے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا گیا جو افسوسناک ہے۔
سڈنی حملہ آور کا بیان دینے سے انکار؛کونسا قانونی حق استعمال کیا؟
وفاقی وزیر نے کہا کہ سڈنی واقعہ کے فوری بعد بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے، حالانکہ کسی بھی چینل نے واقعے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مستند چینلز کا بھی ڈس انفارمیشن کا حصہ بننا انتہائی مایوس کن ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے سڈنی واقعہ کی فوری طور پر مذمت کی جبکہ صدر مملکت اور وزیراعظم نے بھی بونڈائی بیچ واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بعض میڈیا اداروں نے ادارتی اصولوں اور صحافتی ضابطوں کا خیال نہیں رکھا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آسٹریلوی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ بونڈائی بیچ واقعہ کا ملزم تلنگانہ کے شہر حیدرآباد (بھارت) سے تعلق رکھتا ہے، جس کے بعد پاکستان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ثابت ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ 16 دسمبر پاکستان کے لیے ایک اذیت ناک دن ہے کیونکہ اسی روز سانحہ اے پی ایس پیش آیا تھا، جس میں ننھے بچوں کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا، سانحہ اے پی ایس میں معصوم بچوں نے عظیم قربانیاں دیں، ایسے دن پر پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش انتہائی تکلیف دہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلائی گئیں اور دشمن ملک کی جانب سے پاکستان کے خلاف مذموم مہم چلائی گئی۔
انہوں نے پاکستان کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل سڈنی واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔
ہم پہلے ہی دن پاکستان سے جنگ ہار گئے تھے ، بھارتی اپوزیشن رہنما کا اعتراف
وفاقی وزیر نے کہا کہ اب تصدیق ہو چکی ہے کہ سڈنی میں فائرنگ کرنے والے حملہ آور بھارتی تھے، جنہوں نے نومبر میں فلپائن کا بھی دورہ کیا تھا، اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ حملہ آور کون تھے اور ان کا تعلق کہاں سے تھا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں فتنہ الہندوستان کی کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کو مسلسل عدم استحکام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سڈنی واقعے پر آسٹریلوی حکام کے ذمہ دارانہ رویے کو سراہتے ہوئے کہا کہ حقائق سامنے آنے کے بعد سچ واضح ہو گیا ہے۔
