اسٹیٹ بینک آف پاکستان (sbp)نے نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت کے نظام کو مزید شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے اہم قدم اٹھا لیا ہے۔
مرکزی بینک نے تمام ایکسچینج کمپنیوں اور منی چینجرز کے لیے لازم قرار دیا ہے کہ وہ کرنسی بیچنے یا خریدنے والے ہر شخص کی شناخت نادرا کے نظام کے ذریعے ویریفائی کریں۔
آئی ایم ایف کے 1.2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں منتقل
اسٹیٹ بینک کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد کرنسی مارکیٹ میں غیر قانونی لین دین، بے نامی ٹرانزیکشنز اور مبینہ منی لانڈرنگ کی کوششوں کو روکنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت کا ریکارڈ پہلے کے مقابلے میں زیادہ واضح، محفوظ اور ڈیجیٹل شکل میں محفوظ ہوگا، جس سے نگرانی کا عمل بہتر ہوگا اور کسی بھی مشکوک ٹرانزیکشن کی نشاندہی فوری طور پر کی جاسکے گی۔
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، مجموعی ذخائر 19.73 ارب ڈالر تک پہنچ گئے
نئی پالیسی کو بینکنگ سیکٹر، ماہرین معاشیات اور قانونی ماہرین نے خوش آئند قرار دیا ہے، جو سمجھتے ہیں کہ جدید ڈیجیٹل ویریفیکیشن ملک میں کرنسی کاروبار کو عالمی معیار کے مطابق لانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
