وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللّٰہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی بطور جماعت اور بانی پی ٹی آئی 9 مئی اور اپنے بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کریں اور معذرت کریں، شاید کوئی راستہ کھلے۔
نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کے دوران رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی اپنے بیانات پر قائم رہتے ہیں تو ڈیڈ لاک برقرار رہے گا، ماضی میں پی ٹی آئی سے بات چیت کی کوشش کی گئی، بانی پی ٹی آئی کے بیانات کی وجہ سے ڈیڈ لاک کی صورتِحال پیدا ہوئی۔
عمران خان کے خلاف غداری کا مقدمہ خارج از امکان نہیں، رانا ثنااللہ
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ مستقل ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ کے قریب احتجاج کریں گے تو اس صورت میں حکومت بانی پی ٹی آئی کی کسی جیل منتقلی کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے بطور جماعت اور بانی پی ٹی آئی نے ادارے پر براہ راست تنقید کی، ادارے کے خلاف بات چیت کو لوگ پسند نہیں کریں گے۔ بانی پی ٹی آئی نے پروپیگنڈے میں بھارت کا ساتھ دیا، پی ٹی آئی سے گفتگو کا کوئی طریقہ کار نہیں اپنایا جا سکتا۔
مائنس ون ہوا تو کوئی باقی رہے گا نہ حالات آپ کے کنٹرول میں ہوں گے ، بیرسٹر گوہر
رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے ہمیشہ افہام و تفہیم کی بات کی ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت ہونی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر خود کہہ چکے کہ سیاسی جماعتیں آپس میں بات کریں۔
