متحدہ عرب امارات نے پاسپورٹ انڈیکس 2025 میں ایک بار پھر دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
یہ مسلسل ساتواں سال ہے جب یو اے ای عالمی درجہ بندی میں نمبر ون مقام برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔
عالمی رینکنگ جاری کرنے والی کمپنی Arton Capital کے مطابق اس سال کئی بڑے ممالک کی پوزیشن میں کمی آئی، مگر متحدہ عرب امارات نے مزید بہتری دکھاتے ہوئے اپنی برتری مضبوط کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سفری سہولتیں، سفارتی استحکام اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں نے اسے دنیا میں سب سے آگے رکھا ہے۔ سخت امیگریشن پالیسیوں کے باوجود اماراتی شہری سب سے زیادہ ممالک میں آسان رسائی رکھتے ہیں۔
ایشیا نے 2025 میں نمایاں ترقی دکھائی۔سنگاپور 30ویں سے بڑھ کر دوسرے نمبر پر پہنچ گیا اور اس کا اسکور 175 ہو گیا۔ملائیشیا بھی 41ویں سے چڑھ کر 17ویں پوزیشن پر آ گیا جسے 174 پوائنٹس ملے۔جاپان اور جنوبی کوریا معمولی کمی کے باوجود سرفہرست ممالک میں شامل رہے۔
ماہرین کے مطابق ایشیائی ممالک کی معاشی مضبوطی، بہتر سفارتی روابط اور جدید سفری نظام نے ان کی عالمی پوزیشن کو تقویت دی ہے۔
سال 2025 میں دنیا کے طاقتور ترین ممالک کی فہرست جاری، امریکا پہلے نمبر پر
ٹاپ 20 میں یورپی ممالک کی اکثریت اب بھی برقرار ہے جن میں اسپین، فرانس، جرمنی، اٹلی اور بیلجیم شامل ہیں۔ تاہم سخت ویزہ پالیسیوں اور نئے داخلہ قوانین کی وجہ سے ان کے اسکور میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
انگلش بولنے والے بڑے ممالک کی کارکردگی اس سال سب سے زیادہ خراب رہی۔ برطانیہ 32 سے گر کر 39ویں نمبر پر آ گیا۔
امریکا 41ویں اور کینیڈا 40ویں مقام پر چلے گئے۔ متعدد ممالک کی جانب سے ویزہ فری رسائی ختم کیے جانے کے بعد ان ملکوں کے شہری متبادل شہریت یا ریزیڈنسی پروگراموں میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔
سال 2025 کو الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) کے تیزی سے پھیلتے نظام کا سال قرار دیا گیا۔ اسرائیل، برطانیہ، ترکمانستان، مالدیپ اور سوئٹزرلینڈ نے باقاعدہ ETA سسٹم متعارف کرایا۔
کینیڈا نے قطری شہریوں کے لیے ویزہ لازمی شرط ختم کرکے انہیں براہ راست ETA کی سہولت دے دی، جس کے بعد قطر دوسرا خلیجی ملک بن گیا جسے یہ سہولت حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2026 میں 25 سے زائد ممالک ETA نظام شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ یورپی یونین کا ETIAS پروگرام بھی جلد نافذ ہوگا، جو دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل سفری اجازت نامہ سسٹم بننے جا رہا ہے۔
